ملحدوں کا سؤال: ہمیں کیسے پتا چلے کہ حضور صلی الله علیہ وسلم سچ بول رہے ہیں
تحریر ابن طفیل الأزہری
سؤال:
السلام علیکم
میرا سوال وحی کے متعلق ہے۔
ہم مسلمانوں کا عقیدہ ہے کہ یہ قرآن حکیم وحی ہے جو جبرٸیل عہ لے کر نازل ہوا۔
اب جبرٸیل عہ کی آمد کو کسی نے دیکھا تو نہیں۔ پھر کیسے معلوم ہوگا کہ سیدنا محمد صلعم جو یہ کہہ رہے ہیں کہ مجھے پر وحی نازل ہوٸی ہے، وہ حقیقتآ وحی نازل ہوٸی؟
اس کی تصدیق کیسے ہوگی؟
بعض لوگ کہتے ہیں کہ قرآن حکیم کے متن، أس کی پیشنگوٸی اور ساٸنسی حوالہ جات کو بنیاد بناکر قرآن کو وحٸ ربانی مانا جاٸےگا۔
پر سوال یہ ہے کہ یہ آیات تو بعد میں اتریں۔ اب جو اول آیت اتری ہوگی اس میں نا کوٸی پیشنگوٸی ہے نا کوٸی اور غیرمعمولی بات تو اسے وحی کیسے مانا جاٸے؟
جواب أز ابن طفیل الأزہری ( محمد علی ):
سؤال اچھا ہے أور جواب بھی ملاحظہ فرمائیں:
کسی بھی شئے کی تصدیق مختلف طریق سے ہوتی ہے أور ان طریق ہر اہل منطق و فلسفہ و علمائے کرام کا اتفاق ہے أن میں سے تصدیق کے درج ذیل طرق ہیں جس سے وحی کی تصدیق ہوتی ہے:
پہلا طریق:
کسی بھی شئے کی تصدیق مخبر کے أحوال سے کی جاتی ہے مطلب جو خبر دے رہا ہے أسکی حالت کیا وہ سچا ہے یا جھوٹا یا کبھی سچ بولتا ہے أور کبھی جھوٹ
تو حضور صلی الله علیہ وسلم وحی کے مخبر ( خبر دینے والے) تھے أور آپکی ذات کی صداقت کی گواہی وحی سے نازل ہونے سے پہلے سبھی دیتے تھے تو وحی کی تصدیق پر حضور صلی الله علیہ وسلم کی صداقت دلیل بنی أور إسی کو آپ نے کفار کے سامنے بھی دلیل بنایا أور انہوں نے آپکی صداقت کی تصدیق کی
دوسرا طریق:
معجزہ،
جنہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی بات پہ اعتبار نہ کیا انہوں نے معجزہ مانگا تصدیق کے لیے أور آپ نے أنکو کی معجزے دکھائے جیسے شق قمر کا معجزہ تو لہذا وحی کی تصدیق معجزہ کے ذریعے بھی ہوگی۔۔
تیسرا طریق:
تواتر
حضور صلی الله علیہ وسلم کی نبوت کی خبر ہم تک تواتر سے پہنچی أور اہل عقل و منطق متفق ہیں کہ تواتر کی نفی نہیں کرسکتے لہذا ہم نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی وحی کی تصدیق تواتر کے ذریعہ کی۔۔۔۔
لہذا ان طرق سے ہم حضور صلی الله علیہ وسلم کی وحی کی تصدیق کرسکتے ہیں أور وہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے معجزہ پر دلیل بھی ہے۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اعتراضات :
1۔عرض یہ ہے کہ مخبر کے احوال تو پردہٕ گمشدگی میں ہیں۔ یعنی سیدنا رسالتمآب صلی اللہ علیہ وسلم کے نبوت کے اعلان سے پہلے صرف وہ ہی جانتے تھے جو ان کے عزیز و اقارب ہوں گے۔ لیکن ان اعزإ و اقارب کا کیا حال ہے۔ ابو طالب، اپنے چچا نے بھی ایمان قبول نہیں کیا۔ یہاں حضور کی صداقت پر سوال نہیں اٹھ رہا۔ سوال ان کی شہرت کے متعلق ہے کہ ان کی صداقت و ایمانداری کا حال تو صرف وہ جانتے ہوں گے جن کی ان سے رسم و راہ رہی ہو۔ آج جو ملحدین سوال کر رہے ہیں وہ تو ان کی صداقت کے شاہد نہیں۔
٢۔معجزہ بھی ان لوگوں کے لیے حجت ہوگا۔ ہمارے لیے تو نہ ہوا۔
٣۔ہم تک تواتر سے یہ خبر پہنچی کے حضرت محمد صہ نے نبوت کا دعوٸ کیا۔ کسی نے جبرٸیل کو آتے تو نا تب دیکھا نا اس کے آنے کی خبر آج تواتر سے ہم تک پہنچی
جوابات أز ابن طفیل الأزہری:
قبلہ پلے پوائنٹ کا جواب:
یہی تو بات ہم بھی کررہے ہیں کہ جنہوں نے حضور صلی الله علیہ وسلم کی حیات میں أنکو دیکھا انہوں نے آپکو سچا مانا
تو جب ہمارے دور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم ظاہری حیات میں نہی ہیں تو تیسری منطقی دلیل آئے گی وہ ہے تواتر کیونکہ إنسان ہر بات کو دیکھ کر تھوڑا مانتا ہے بلکہ بہت سی باتوں کو سن کر مانتا ہے جیسے نیوز چینل ،
اب جس نے مکہ دیکھا ہی نہیں تو کیا وہ إنکار کردے گا؟
نہیں، بلکہ أسکے ہاں اسکا وجود تواتر سے ثابت ہے۔۔
ملحد لوگ جو سائنسٹسٹ کی مانتے ہیں تو کیا ان ملحدوں نے وہ سب کچھ دیکھا جو سائنٹسٹ بتاتے ہیں؟
نہیں ، بلکہ ان کے کہنے پہ مانتے ہیں تو وہاں ملحد کیوں نہیں کہتے کہ ہم نے تو دیکھا نہیں تو سائنس کے نظریات کو کیوں مان لیں؟
وہ کہیں گے دلائل کی بنیاد پہ
ہم کہیں گے دلائل کی بنیاد پہ ہی تو وحی کی بھی تصدیق ہورہی ہے تو اسکو کیوں نہیں مانتے؟
وہ کہیں گے وہ مادی دلیل نہیں
ہم کہیں گے بات مادی دلیل کی نہیں بات دیکھنے کی ہورہی ہے،
آپ جن دلائل کو مان رہے ہیں وہ آپ نے دیکھے ہی نہیں آپ تو سائنسٹست کی بات کو مان رہے ہیں ایسے ہی ہم نے بھی حضور صلی الله علیہ وسلم کی بات کو مانا کیونکہ انہوں نے خود دیکھا۔۔
سچا ہونا الگ بات ہے أور أسکی بات پہ عمل کرنا الگ بات ہے کتنے ہی لوگ سچے ہوتے ہیں لیکن ہم أنکی بات دیگر اغراض کی وجہ سے نہیں مانتے۔
إسی لیے زاد المعاد میں ہے أور سنن ترمذی میں کہ عیسائیوں کے دو عالم آئے انہوں نے کہا: ہم آپکو حقیقی نبی مانتے ہیں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
پھر مجھ پر إیمان کیوں نہیں لاتے ہو۔۔
اب دیکھیں سچا مان رہے ہیں لیکن پھر بھی إیمان نہیں لارہے ، إسی لیے ابو جہل نے کہا وہ سچے ہیں لیکن میں إیمان نہیں لاونگا لہذا إیمان لانا أور کسی کا سچا ہونا الگ الگ بات ہے کیونکہ سچے شخص پہ بعض لوگ ذاتی عناد و حسد و اغراض دنیوی کی وجہ سے إیمان نہیں لاتے۔
دوسرے پوائنٹ کا جواب:
آپ بات سمجھیں مینے تین طریق بیان کیے جب معجزہ أنکے لیے حجت ہے تو ہم تک طریق تواتر سے پہنچے لہذا ہم پر بھی حجت آپ طریق تواتر کو بھی دیکھیں وہ کسی شئے کی تصدیق کے لیے ہوتا ہے أور ہمارے ہاں معجزہ قرآن بھی ہے۔
تیسرے پوائنٹ کا جواب:
ہم عرض کرچکے ہیں کہ تصدیق کا طریق صرف دیکھنا نہیں بلکہ أور بھی ہیں جیسے ہم نے أپنی تحریر میں بیان لیے أور آپ صرف دیکھنے پہ زور دے رہے ہیں حالانکہ اہل عقل کے ہاں صرف تصدیق کے لیے دیکھنا ہی واحد طریق نہیں ، نہیں تو ہمیں بہت سی باتوں کا إنکار کرنا پڑے گا جنکو ہم نے دیکھا نہیں لیکن مانتے ہیں کیونکہ لوگوں نے ہمیں بتایا ہے.
أور اسکی بہترین مثال جو ہرقل بادشاہ أور أبو سفیان کے درمیان حضور صلی الله علیہ وسلم کی تصدیق وحی کے متعلق مکالمہ ہوا تھا وہ ہے۔
واللہ أعلم ورسولہ
Comments
Post a Comment