امت مسلمہ کے زوال کا سبب ہم مولوی ہیں
جب بھی کوئی مصیبت آتی ہے یا امت مسلمہ کو ذلت و رسوائی کا سامنا کرنا پڑتا ہے تو ہم جیسے مولوی باہر آجاتے ہیں
أور کہتے ہیں یہ بددین حکمرانوں کی وجہ سے ہے أور ساری ذمہ داری حکمرانوں پہ ڈال دیتے ہیں لیکن کبھی ہم نے یہ کہا کہ أیسے حکمران أور پھر أیسی ذلت و رسوائی ہم مولویوں کی وجہ سے ہے کیونکہ:
ہم نے قرآن کریم کے لقب" مسلمان" کو ناکافی سمجھتے ہوئے حق و باطل کی پہچان کے لیے ساتھ أور لاحقے لگالیے۔
-ہم نے أپنے سواء سب پہ کافر کافر کے فتوے لگائے ہوئے ہیں أور موجودہ دور میں کافر لفظ کی جگہ ہم "بدعقیدہ/ بد مذہب " کا لفظ استعمال کرتے ہیں تاکہ ایک تیر سے دو شکار ہوجائیں.
- جب مخالف مسلک بدعقیدہ/بدمذہب ہے تو أسکے ساتھ درج ذیل معاملات کا حکم دیتے ہیں:
- بد عقیدہ کے پیچھے نماز نہیں پڑھی جائے گی.
بد عقیدہ کے ساتھ قربانی نہیں کی جائے گی.
-بدعقیدہ کے ساتھ شادی نہیں ہوسکتی.
بد عقیدہ کے ساتھ معاملات نہیں ہوسکتے.
-بدعقیدہ کی مساجد مساجد ضرارا ہیں.
-بدعقیدہ مسلک کا عالم کافر سے بھی بدتر ہے ( العیاذ باللہ) أور پھر توہین علماء کے فتوے عام لوگوں پہ لگاتے ہیں یہ نہیں کہتے کہ علماء کی توہین سب سے زیادہ تو ہم مولوی ہی کرتے ہیں۔
-مساجد کی توہین ہم کرتے ہیں ، علماء کی توہین ہم کرتے ہیں ، دینی کتب کی توہین ہم کرتے ہیں سب توہینوں کے مرتکب ہم ہیں اور فتوے لبرل پہ لگاتے ہیں ۔۔
-مسلمانوں کے مسلکی اتحاد کی بات کرنے کو حرام قرار دیتے ہیں أور منافقت سے تعبیر کرتے ہیں
لیکن بد عقیدہ کا پیسوں والا چیک حلال ہے أس وقت استفسار نہیں کرتے کہ یہ کس بدعقیدہ مسلک کا ہے۔۔
ہم مولوی الا بعض کے بڑے دوغلے ہیں کبھی نہیں کہتے یہ ذلت و رسوائی ہماری وجہ سے ہے حکمرانوں کی وجہ سے نہیں ۔۔
أور عوام ہمیں آپسی اختلافات کی وجہ سے منتخب ہی نہیں کرتی أور یہی اللہ رب العزت کی پکڑ کی علامت ہے۔۔
لیکن دوسری طرف عوام اتنی بیوقوف ہے کہ وہ ہم مولویوں کی ہر بات پہ اعتبار کرلیتی ہے أور ذمہ دار حکمرانوں کو سمجھتی ہے۔۔۔۔۔
ہم مولویوں پر افسوس!
اب پکار رہے ہیں سعودیہ کو ، حکومت کو لیکن مجال ہے کہ ہم أپنی حرکتوں کی اصلاح کرلیں۔۔۔۔
یا اللہ ہم اپنے گناہوں کا اعتراف کرتے ہیں ہمیں معاف فرمادے اور ہمارے کشمیری بھائیوں کی حفاظت فرما....
آمین یا رب العالمین۔
Comments
Post a Comment